Ramzan Corona Virus Or Tajdeed E Imaan



Ramzan Corona Virus Or Tajdeed E Imaan

رمضان، کرونا وائرس اور تجدیدِ ایمان
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم رمضان کے بابرکت مہینے کی آمد کے ساتھ ہی اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ موجودہ حالات میں مسلمانوں کو اپنے رب کی طرف لوٹتے ہوۓ اپنے ایمان کی حالات کو پرکھنا چاہیئے
 

آج کرونا وائرس کی شکل میں دنیا تیسری جنگِ عظیم سے نبرد آزماء ہے، جس میں ہر ایک کی جان خطرے میں ہے۔ ایسے حالات میں ہر ایک، اعلیٰ سے اعلیٰ عہدےِ داروں سے لیکر معاشرے کے سب سے نیچلے طبقات اور کسی ایک ملک سے لیکر تمام ممالک، سب اپنی اپنی جان کے خطرے سے دو چار ہیں۔ آج احتیاط ہی انسان کا واحد ہتھیار ہے۔ آج ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ دورِجدید کی یہ نئی وباء انسان کو باور کرواتی ہے کہ بے پناہ معاشی ترقی کے باوجود، جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہونے کے باوجود اور جدید ترین طبعی صلاحیتوں کے باوجود انسان کتنا بے بس ہے۔
تاہم، گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل چلی آتی مصروف زندگی میں کرونا وائرس کے دور میں آنے والے رمضان المبارک کے یہ فراغت کے لمحے ہمیں حقیقت میں سوچ و بچار کی دعوت بھی دیتے ہیں اور اپنی اپنی زندگیوں کی ترتیب کو صحیح سمت میں ڈالنے کا سنہری موقعہ بھی۔
موجودہ صورتحال، جس کے تحت ہر شخص اپنے گھر میں مقید(Lock Down) ہے، جہاں انسان کو بہت سے نئے مسائل اور اُن کے حل سے روشناس کروا رہی ہے وہیں سوچ کے نئے زاویے بھی مہیا کر رہی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم رمضان کے بابرکت مہینے کی آمد کے ساتھ ہی اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ موجودہ حالات میں مسلمانوں کو اپنے رب کی طرف لوٹتے ہوۓ اپنے ایمان کی حالات کو پرکھنا چاہیئے اورماضی کے تمام کبیرہ و صغیرہ گناہوں کی معافی اور توبہ و استغفار کا اہتمام کرنا چاہیئے۔ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ پاک، جس نے ہمیں بنایا، اس کائنات کو بنایا، ہمیں اسی کی حمد و ثناء کرنی چاہیے، اسی سے ڈرنا چاہیئے اور اسی سے مدد مانگنی چاہیۓ۔آج یقینا انسان کے لئے یہ ایک موقع ہے کہ اپنے گھروں میں بلا وجہ خوف و حراس یا بوریت کا شکار ہونے کے بجائے اپنے آپ کو تمام ظاہری اور باطنی پراگندگی سے پاک صاف کرے اور اس حقیقت کو سمجھے کہ انسان کی ترقی کے دعوے اللہ سبحان و تعالیٰ کی بڑائی و کٗبریائی کے اگے کوئی حیثیت نہیں رکھتے جبکہ حسنِ معاشرت کے تمام پیمانے بھی اس بنیادی نقطےکو سمجھنے کے بعد ہی بھرے جا سکتے ہیں۔
لہٰزا اپنا دل قرآن پاک پڑھنے، اس کو سمجھنے اور اس کے پیغام کو پھیلانے میں لگانا چاہیئے۔ زیادہ سےزیادہ نمازیں پڑھنا اور اپنے ہر آنے والے دن کو اللہ کے احکامات کے مطابق گزارنے کا وعدہ کرنا چاہیئے۔ جبکہ وہ لوگ جو اسلام سے ناواقف ہیں، اس پیغام کو اپنے لیئے دینِ اسلام کی طرف آنے کی ایک دعوت سمجھیں، اپنے رب کی طرف پلٹیں، یہ نا ہو کہ اپنے رب پر کامل یقین کرنے کا وقت نکل جائے،اور اعمال کے حساب کا کڑا دن آن پہنچے،اور انسان جو دنیا میں اللہ کا خلیفہ بنا کر بھیجا گیا تھا،جس کا کام اپنےقول و فعل سے اللہ کی حاکمیت کو ثابت کرنا تھا وہ اپنی زندگی کے سب سے اہم امتحان میں فیل ہو کر جہنم کا ایندھن بن جائے۔اللہ رب العزت نے لا تعداد انبیاؑء کے زریعے اور آخری نبیِ پاک حضرت محمد ﷺ کو بھی جو بنیادی ذمہ داری سونپی وہ یہی پیغام تھا کہ اللہ ہی وہ واحد ہستی ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ بحثیتِ مسلمان یا ایک مسلمان کا یہ ایمان بھی ہے کہ کائنات کی کوئی شے ربِ کائنات کی مرضی و منشاء کے بغیر نا ہل سکتی ہے اور نا کسی کو کوئی بھی نفع یا نقصان پہنچا سکتی ہے۔اس لیئے اس وقت یہ کہنا ناگزیر ہے کہ کرونا وائرس کا جرثوما اللہ کے حکم کے سوا کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور نا ہی یہ اللہ کے حکم کے بنا اس کرہء ارض سے ختم ہو گا تا ہم ہر انسان کو تدبیر کا جو اختیار دیا گیا ہے اس کی روشنی میں احتیاط ہر انسان پر لازم ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ سائنسدانوں کا یہ کام ہے کہ وہ اس وباء کا کوئی توڑ تلاش کریں اور ہمارا یقین بھی مثبت ہونا چاہیئے کہ وہ ضرور اللہ کے حکم سے اس وباء کا کوئی حل نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے، جیسا کہ چین میں اس وباء کی روک تھام کے حوالے سے کافی حد تک کامیابی حاصل کر لی گئ ہے، لیکن تاحال پوری دنیا اس آسیب کے شکنجے میں ہے اور کرونا وائرس سے انفیکٹد لوگوں کے حتمی علاج سے ناواقف ہے۔
موجودہ حالات میں تجدیدِ ایمان اس لیئے بھی بہت ضروری ہے کہ اگر ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ سوچا جائے تو معلوم ہوتا ہے آخر کیوں آج کے دور میں بھلائی کے صلے میں آخرت کی کامیابی اور اپنے رب سے اچھی امید کیوں پھیکی پڑ گئی ہے اور نیکی کیوں مشکل اور بدی کیوں نہایت آسان بن گئی ہے اور گزشتہ ادوار میں ہم نے اپنی زندگیوں میں جن چیزوں کو سب سے زیادہ اہمیت دے رکھی تھی یعنی سیاست، معیشت، اورمعاشرت کے دیگر پہلو، وہ سب آج بہت پیچھے رہ گئے ہیں اورآج انسانی زندگی کی بقاٰء سب سے مقدم ہے۔اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ انسان کی اپنے رب پرایمان کی کمزوری اور اللہ تعالیٰ کی بڑائی و بزرگی سے ناواقفیت انسان کو ناصرف گمراہی بلکہ مایوسی اور بے چینی کی طرف بھی لے گئی ہے، وگرنا برائی کرتے ہوئے انسان اپنے رب کی ناراضگی کا خوف یا آخرت کی سخت باز پرس سے ایک بار ضرور ڈرے اور مایوس یا بےچین ہوتے ہوئے اپنے رب کی طرف سے اچھے اور بہتر صلے کی امید اسے کبھی مایوس نا ہونے دے۔
پچھلے کچھ عرصے سے جس طرح ہر طرف انسانیئت کی پامالی اور ناانصافی کا دوردورہ تھا جو کہ آج بھی موجود تو ہے مگر کرونا وائرس کی وجہ سے بظاہر دب سا گیا ہے مگر ملکی اور غیرملکی حالات پر غور و فکر کرنے والے افراد جانتے ہیں کہ کرونا وائرس کس طرح ایک تنبہ کی شکل میں عوامِ عالم کو بہت سی مظلوم اور نہتی قوموں کے طوالت کے شکار مسائل جن میں خاص طور پر کشمیر، فلسطین، شام اور بہت سی دیگر مسائل کا شکار اقوام کےطویل عرصے سے جان، غربت، خوف، افلاس اور ناجائز قید کے عذاب جیسے روح فرسا حالات، مگر عالمی طاقتوں کی سیاسی پینتربازیوں کی وجہ سے طوالت کا شکارحالات کا تجربہ بھی دیتا ہے۔اس تناظرمیں یہ وقت کی ضرورت بھی ہے کہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر شعبے میں ایمان کی سلامتی قائم کریں اور اپنے رب کے نافظ کردہ احکامات کی روشنی میں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو بہتر بناتے ہوئے اپنے آپ سے وعدہ کریں کہ آنے والے دنوں میں ہمارا ہر فیصلہ انصاف پر مبنی ہو گا اور دنیا سے جھوٹ، ظلم ،ناانصافی، جہالت اور بد دیانتی کا خاتمے کرنے کے لیے ہم بھی اپنا مثبت کردار ادا کریں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

Gazwa Badar

Scientific topics The Relationship between Wudu

Quranic Miracles